کوئی بچنے کا نہیں سب کا پتہ جانتی ہےکس طرف آگ لگانا ہے ہوا جانتی ہےاُجلے کپڑوں میں رہو یا کہ نقابیں ڈالوتم کو ہر رنگ میں خلقِ خدا جانتی ہےروک پائے گی نہ زنجیر نہ دیوار کوئیاپنی منزل کا پتہ آہِ رسا جانتی ہےٹوٹ جاؤں گا، بکھر جاؤں گا، ہاروں گا نہیںمیری ہمت کو زمانے کی ہوا جانتی ہےآپ سچ بول رہے ہیں تو پشیماں کیوں ہیںیہ وہ دنیا ہے جو اچھوں کو برا جانتی ہےآندھیاں زور دکھائیں بھی تو کیا ہوتا ہےگُل کھلانے کا ہنر بادِ صبا جانتی ہےآنکھ والے نہیں پہچانتے اس کو منظرجتنے قریب سے پھولوں کی ادا جانتی ہے
No comments:
Post a Comment