کن لفظوں میں اتنی کڑوی، اتنی کسیلی بات لکھوںشہر کی میں تہذیب نبھاؤں، یا اپنے حالات لکھوںغم نہیں لکھوں کیا میں غم کو، جشن لکھوں کیا ماتم کوجو دیکھے ہیں میں نے جنازے کیا اُن کو بارات لکھوںکیسے لکھوں میں چاند کے قصے، کیسے لکھوں میں پھول کی باتریت اُڑائے گرم ہوا تو کیسے میں برسات لکھوںکس کس کی آنکھوں میں دیکھے میں نے زہر بجھے خنجرخود سے بھی جو میں نے چھپائے کیسے وہ صدمات لکھوںتخت کی خواہش، لُوٹ کی لالچ، کمزوروں پر ظلم کا شوقلیکن اُن کا فرمانا ہے میں اُن کو جذبات لکھوںقاتل بھی مقتول بھی دونوں نام خدا کا لیتے تھےکوئی خدا ہے تو وہ کہاں تھا، میری کیا اوقات لکھوںاپنی اپنی تاریکی کو لوگ اُجالا کہتے ہیںتاریکی کے نام لکھوں تو قومیں، فرقے، ذات لکھوںجانے یہ کیسا دور ہے جس میں یہ جرآت بھی مشکل ہےدن ہو اگر تو اُس کو لکھوں دن، رات اگر ہو رات لکھوںجاوید اختر
No comments:
Post a Comment