کافرِ عشق ہوں میں بندۂ اسلام نہیںبت پرستی کے سوا اور مجھے کام نہیںعشق میں پوجھتا ہوں قبلہ و کعبہ اپناایک پل دل کو مرے اُس کے بن آرام نہیںڈھونڈھتا ہے تو کدھر یار کو میرے اے ماہمنزلش در دلِ ماہست لبِ بام نہیںبوالہوس عشق کو تو خانۂ خالہ مت بوجھاُس کا آغاز تو آساں ہے پہ انجام نہیںپھانسنے کو دلِ عشاق کے الفت بس ہےگھیر لینے کو یہ تسخیر کم از دام نہیںکام ہو جائے تمام اُس کا پڑے جس پہ نگاہکشتۂ چشم کو پھر حاجتِ صمصام نہیںابر ہے جام ہے مینا ہے مئے گلگوں ہےہے سب اسبابِ طرب ساقیِ گلفام نہیںہائے رے ہائے چلی جاتی ہے یوں فصلِ بہارکیا کروں بس نہیں اپنا وہ صنم رام نہیںجان جاتی ہے چلی دیکھ کے یہ موسمِ گلہجر و فرقت کا میری جان پہ ہنگام نہیںدل کے لینے ہی تلک مہر کی تھی ہم پہ نگاہپھر جو دیکھا تو بجز غصہ و دشنام نہیںرات دن غم سے ترے ہجر کے لڑتا ہے نیازیہ دل آزاری مری جان بھلا کام نہیں(حضرت شاہ نیاز بریلوی)
No comments:
Post a Comment