یارب! مرے سکوت کو نغمہ سرائی دےزخمِ ہُنر کو حوصلہ لب کشائی دےلہجے کو جُوئے آب کی وہ نے نوائی دےدُنیا کو حرف حرف کا بہنا سنائی دےرگ رگ میں اُس کا لمس اُترتا دکھائی دےجو کیفیت بھی جسم کو دے ،انتہائی دےشہرِ سخن سے رُوح کو وہ آشنائی دےآنکھیں بھی بند رکھوں تو رستہ سجھائی دےتخیئلِ ماہتاب ہو، اظہارِ آئینہآنکھوں کو لفظ لفظ کا چہرہ دکھائی دےدل کو لہو کروں تو کوئی نقش بن سکےتو مجھ کو کربِ ذات کی سچی کمائی دےدُکھ کے سفر میں منزلِ نایافت کُچھ نہ ہوزخمِ جگر سے زخمِ ہُنر تک رسائی دےمیں عشق کائنات میں زنجیر ہو سکوںمجھ کو حصارِ ذات کے شہر سے رہائی دےپہروں کی تشنگی پہ بھی ثابت قدم رہوںدشتِ بلا میں، رُوح مجھے کربلائی دے
No comments:
Post a Comment