خدا عظیم، زمانہ عظیم، وقت عظیماگر حقیر ہے کوئی یہاں تو صرف ندیموہی ندیم، وہی لاڈلا بہشتوں کاوہی ندیم، جو مسجود تھا فرشتوں کاوہ جس نے جبر سے وجدان کو بلند کہاوہ جس نے وسعتِ عالم کو اک زقند کہاوہ جس نے جرمِ محبت کی جب سزا پائیتو کائنات کے صحراؤں میں بہار آئیوہ جس نے فرش کو بھی عرش کا جمال دیاوہ جس نے تند عناصر کو ہنس کے ٹال دیابڑھا تو راہیں تراشیں، رُکا تو قصر بنائےاُڑا تو گیت بکھیرے، جھکا تو پھول کھلائےوہ جس کے نام سے عظمت قسم اٹھاتی ہےاسی کی آج خدائی ہنسی اڑاتی ہےنہیں۔۔۔ کسی سے بگڑنا مرا سبھاؤ نہیںمری سرشت میں گلزار ہیں، الاؤ نہیںہزار بار شکستوں پہ مسکرایا ہوںمصیبتوں کی گرج میں بھی گنگنایا ہوںاگر حریمِ بقا سے فنا ملی ہے مجھےاسی فنا میں بقا کی ادا ملی ہے مجھےخدا شناس بھی ہوں اور خود شناس بھی ہوںخدا سے دور بھی ہوں اور خدا کے پاس بھی ہوںیہاں زمیں پہ بھی تخلیق کام ہے میراکہ کبریائی سے منسوب نام ہے میرازمیں مری ہے، فضا بھی مری، خلا بھی مریخلا مری ہے تو اقلیمِ ماورا بھی مریخدا کے ذہن کا فن پارۂ عظیم ہوں میںتمام دہر کا دولھا ہوں میں۔۔۔ ندیم ہوں میں
No comments:
Post a Comment