جب کہا اور بھی دنیا میں حسیں اچھے ہیںکیا ہی جھنجلا کے وہ بولے کہ ہمیں اچھے ہیںنہ اُٹھا خواب عدم سے ہمیں ہنگامہء حشرکہ پڑے چین سے ہم زیرِ زمیں اچھے ہیںکس بھروسے پہ کریں تجھ سے وفا کی اُمیدکون سے ڈھنگ ترے جان حزیں اچھے ہیںخاک میں آہ ملا کر ہمیں، کیا پوچھتے ہوخیر جس طور میں ہم خاک نشیں اچھے ہیںہم کو کوچے سے تمہارے نہ اُٹھائے اللہصدقے بس خلد کے کچھ ہم تو یہیں اچھے ہیںنہ ملا خاک میں، تو ورنہ پشیماں ہوگاظلم سہنے کو ہم اے چرخ بریں اچھے ہیںدل میں کیا خاک جگہ دوں ترے ارمانوں کوکہ مکاں ہے یہ خراب اور مکیں اچھے ہیںمجھ کو کہتے ہیں رقیبوں کی بُرائی سن کروہ نہیں تم سے بُرے بلکہ کہیں اچھے ہیںبُت وہ کافر ہیں کہ اے داغ خدا اُن سے بچائےکون کہتا ہے یہ غارتگر دیں اچھے ہیں
No comments:
Post a Comment