مستیء حال کبھی تھی ، کہ نہ تھی ، بھول گئےیاد اپنی کوئی حالت نہ رہی ، بھول گئےیوں مجھے بھیج کے تنہا سر بازارِ فریبکیا مرے دوست مری سادہ دلی بھول گئےمیں تو بے حس ہوں ، مجھے درد کا احساس نہیںچارہ گر کیوں روشِ چارہ گری بھول گئے؟اب میرے اشک محبت بھی نہیں آپ کو یادآپ تو اپنے ہی دامن کی نمی بھول گئےاب مجھے کوئی دلائے نہ محبت کا یقیںجو مجھے بھول نہ سکتے تھے وہی بھول گئےاور کیا چاہتی ہے گردش ایام کہ ہماپنا گھر بھول گئے ، ان کی گلی بھول گئےکیا کہیں کتنی ہی باتیں تھیں جو اب یاد نہیںکیا کریں ہم سے بڑی بھول ہوئی ، بھول گئےجون ایلیا
No comments:
Post a Comment