رات اوڑھے ہوئے آئی ہے فقیروں کا لباسچاند کشکولِ گدائی کی طرح نادم ہےدل میں دہکے ہوئے ناسور لئے بیٹھا ہوںیہی معصوم تصور جو ترا مجرم ہےکون یہ وقت کے گھونگٹ سے بلاتا ہے مجھےکس کے مخمور اشارے ہیں گھٹاؤں کے قریبکون آیا ہے چڑھانے کو تمنّاؤں کے پھولان سلگتے ہوئے لمحوں کی چتاؤں کے قریبوہ تو طوفان تھی، سیلاب نے پالا تھا اسےاس کی مدہوش امنگوں کا فسوں کیا کہیےتھرتھراتے ہوئے سیماب کی تفسیر بھی کیارقص کرتے ہوئے شعلے کا جنوں کیا کہیےرقص اب ختم ہوا موت کی وادی میں مگرکسی پائل کی صدا روح میں پایندہ ہےچھپ گیا اپنے نہاں خانے میں سورج لیکندل میں سورج کی اک آوارہ کرن زندہ ہےکون جانے کہ یہ آوارہ کرن بھی چھپ جائےکون جانے کہ اِدھر دھند کا بادل نہ چھٹےکس کو معلوم کہ پائل کی صدا بھی کھو جائےکس کو معلوم کہ یہ رات بھی کاٹے نہ کٹےزندگی نیند میں ڈوبے ہوئے مندر کی طرحعہدِ رفتہ کے ہر اک بت کو لئے سوتی ہےگھنٹیاں اب بھی مگر بجتی ہیں سینے کے قریباب بھی پچھلے کو، کئی بار سحر ہوتی ہے(مصطفیٰ زیدی)
No comments:
Post a Comment