ہستی ہے جب تک ہم ہیں اسی اضطراب میںجوں موج آ پھنسے ہیں عجب پیچ و تاب میںنے خانۂ خدا ہے نہ ہے یہ بتوں کا گھررہتا ہے کون اس دلِ خانہ خراب میںآئینۂ عدم ہی میں ہستی ہے جلوہ گرہے موج زن تمام یہ دریا سراب میںغافل جہاں کی دید کو مفتِ نظر سمجھپھر دیکھنا نہیں ہے اس عالم کو خواب میںہر جز کو کُل کے ساتھ بمعنی ہے اتصالدریا سے دُر جدا ہے پہ ہے غرق آب میںپیری نے ملکِ تن کو اجاڑا وگرنہ یاںتھا بندوبست اور ہی عہدِ شباب میںمیں اور درد مجھ سے خریداریِ بتاںہے ایک دل بساط میں سو کس حساب میں(خواجہ میر درد)
No comments:
Post a Comment