مجھ میں وہ تابِ ضبطِ شکایت کہاں ہے ابچھیڑو نہ تم کہ میرے بھی منہ میں زباں ہے ابوہ دن گئے کہ حوصلۂ ضبطِ راز تھاچہرے سے اپنے شورشِ پنہاں عیاں ہے ابجس دل کو قیدِ ہستئ دنیا سے ننگ تھاوہ دل اسیرِ حلقۂ زلفِ بتاں ہے ابآنے لگا جب اُس کی تمنا میں کچھ مزاکہتے ہیں لوگ جان کا اس میں زیاں ہے ابلغزش نہ ہو بلا ہے حسینوں کا التفاتاے دل سنبھل وہ دشمنِ دیں مہرباں ہے اباک جرعۂ شراب نے سب کچھ بھلا دیاہم ہیں اور آستانۂ پیرِ مغاں ہے ابہے وقتِ نزع اور وہ آیا نہیں ہنوزہاں جذبِ دل مدد کہ دمِ امتحاں ہے ابہے دل غمِ جہاں سے سبکدوش ان دنوںسر پڑتا سوجھتا کوئی بارِ گراں ہے ابحالی تم اور ملازمتِ پیرِ مے فروشوہ علمِ دیں کدھر ہے وہ تقویٰ کہاں ہے اب(خواجہ الطاف حسین حالی)
No comments:
Post a Comment