کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگامیرا دروازہ ہواوں نے ہلایا ہوگادل ناداں نہ دھڑک اے دل ناداں نہ دھڑککوئی خط لے کے پڑوسی کے گھر آیا ہوگااس گلستاں کی یہی ریت ہے اے شاخ گلتو نے جس پھول کو پالا وہ پرایا ہوگادل کی قسمت ہی میں لکھا تھا اندھیراشائدورنہ مسجد کا دیا کس نے بجھایا ہوگاگل سے لپٹی ہوئی تتلی کو گرا کر دیکھوآندھیوں تم نے درختوں کو گرایا ہوگاکھیلنے کے لیے بچے نکل آئے ہوں گےچاند اب اس کی گلی میں اتر آیا ہوگاکیف پردیس میں مت یاد کرو اپنا مکاںاب کے بارش نے اسے توڑ گرایا ہوگاکیف بھوپالی
No comments:
Post a Comment