فاصلے ایسے بھی ہونگے یہ کبھی سوچا نہ تھاسامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھاوہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سومیں اسے محسوس کر سکتا تھا چھو سکتا نہ تھارات بھر پچھلی ہی آہٹ کان میں آتی رہیجھانک کر دیکھا گلی میں کوئی بھی آیا نہ تھاعکس تو موجود تھا پر عکس تنہائی کا تھاآئنہ تو تھا مگر اس میں ترا چہرا نہ تھاآج اس نے درد بھی اپنے علیحدہ کر لیےآج میں رویا تو میرے ساتھ وہ رویا نہ تھایہ سبھی ویرانیاں اس کے جدا ہونے سے تھیںآنکھ دھندلائی ہوئی تھی شہر دھندلایا نہ تھایاد کر کے اور بھی تکلیف ہوتی تھی "عدیم"بھول جانے کے سوا اب کوئی بھی چارہ نہ تھا
No comments:
Post a Comment