Wednesday 29 May 2013

تم گدا گر کے گدا گر ہی رہے
تم نے کشکول تہِ جامہء بانات چھپا رکھا تھا
اور چہرے پر انا تھی
جو ہمیشہ کی طرح جھوٹی تھی
وہ یہ کہتی ہوئی لگتی تھی کہ ہم بھیک نہیں مانگیں گے
یعنی مر جائیں گے لیکن کسی منعم کے درِ زر پر دستک نہ دیں گے
یہ جو گرتے ہوئے سکوں کی کھنک چار طرف گونجی ہے
یہ شنیدہ ہے کئی برسوں سے
اور کشکول کا لہجہ بھی وہی ہے جو ہمیں ازبر ہے
لاکھ انکار کرو لاکھ بہانے ڈھونڈو
تم گداگر کے گداگر ہی رہے

No comments:

Post a Comment